بزرگوں کے ٹی وی سافٹ ویئر انسٹال کر کے لاکھوں کمائیں: وہ کاروبار جسے 99% لوگ حقیر سمجھتے ہیں

بزرگوں کے ٹی وی سافٹ ویئر انسٹال کر کے لاکھوں کمائیں: وہ کاروبار جسے 99% لوگ حقیر سمجھتے ہیں
Richardsonکروڑوں بزرگ ایک ٹی وی کے آگے بے بس ہیں، اور کچھ لوگ اس سے پیسے کما رہے ہیں
پاکستان میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ان میں سے بیشتر گھروں میں سمارٹ ٹی وی موجود ہے، لیکن استعمال صفر کے قریب ہے۔
ٹی وی آن کریں تو پہلے اشتہارات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہوم اسکرین پر ایسے مینیوز بھرے ہوتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ نیوز چینل دیکھنے کے لیے پانچ مختلف مینیوز میں بھٹکنا پڑتا ہے۔ غلط بٹن دب جائے تو ایسی اسکرین پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے نکلنے کا راستہ ہی نہیں ملتا۔
بچے بیرون ملک یا دوسرے شہروں میں مصروف ہیں۔ والدین ریموٹ اٹھا کر بیٹھ جاتے ہیں، کچھ دیر کوشش کرتے ہیں، پھر ہار مان کر ٹی وی بند کر دیتے ہیں۔
یہ منظر پاکستان کے لاکھوں گھروں میں روزانہ دہرایا جاتا ہے۔ اور ہر اس بزرگ کے پیچھے ایک بیٹا یا بیٹی موجود ہے جو والدین کی پریشانی دور کرنے کے لیے پیسے دینے کو تیار ہے۔
گھر جا کر ٹی وی سیٹ کرنے کی فیس 1000 سے 3000 روپے تک ہو سکتی ہے، برانڈ اور مسئلے کی نوعیت کے مطابق۔ یہ رقم زیادہ نہیں لگتی، لیکن ایک بار مطمئن ہونے والا گاہک آپ کا نام پورے محلے میں پھیلا دیتا ہے۔
یہ کاروبار کوئی اور کیوں نہیں کر رہا؟
نوجوان اس کام کو حقیر سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سافٹ ویئر انسٹال کرنا کوئی ہنر نہیں، پانچ منٹ کا کام ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ والدین کے پاس بیٹھے نہیں ہیں۔ جو چیز آپ کے لیے پانچ منٹ کی ہے، وہ ان کے لیے ایک ناقابل عبور دیوار ہے۔
الیکٹرانکس کی دکانیں بھی اس مسئلے کو حل نہیں کرتیں۔ وہ ٹی وی بیچ کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ آفیشل سروس سینٹرز صرف ہارڈ ویئر کے مسائل دیکھتے ہیں۔ تھرڈ پارٹی ایپس انسٹال کرنا، اشتہارات بند کرنا، سادہ انٹرفیس سیٹ کرنا — یہ سب کام کوئی نہیں کرتا۔
کیبل آپریٹرز اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز بھی اس میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کا بزنس ماڈل سبسکرپشنز پر چلتا ہے، سادگی پر نہیں۔ بزرگ صارفین ان کے لیے سب سے کم ترجیح ہیں۔
مارکیٹ میں آج تک کوئی ایسا ٹی وی نہیں آیا جو بزرگوں کے لیے واقعی آسان ہو۔ بڑی کمپنیاں یہ پروڈکٹ بنانا نہیں چاہتیں، چھوٹے کاروبار بنا نہیں سکتے۔ درمیان میں یہ خلا موجود ہے — اور یہی آپ کا موقع ہے۔
1000 روپے کی ایک وزٹ سے روزانہ سینکڑوں آرڈرز تک
ایک لڑکے نے الیکٹرانکس کی دکان پر نوکری سے شروعات کی۔ روزانہ گاہکوں کے گھر ٹی وی لگاتا، انسٹال کرتا۔ ہر وزٹ پر بزرگ گاہکوں کو سافٹ ویئر سیٹ کر کے دیتا، ایک آسان اردو گائیڈ لکھ کر چھوڑ دیتا، اور واٹس ایپ نمبر لے لیتا۔
تین مہینے میں اس کے پاس سینکڑوں بزرگوں کے نمبر تھے۔ پھر اس نے نوکری چھوڑ دی اور خود کام شروع کر دیا۔
پہلا اصول: ایک بار کا گاہک نہیں، مستقل گاہک بنائیں۔ آج سیٹ کیا ہوا ٹی وی کل کسی اپ ڈیٹ یا بچوں کی شرارت سے دوبارہ خراب ہو جاتا ہے۔ پہلی وزٹ 1500 روپے کی لیں، پھر واٹس ایپ پر ویڈیو کال کے ذریعے چھوٹے مسائل 300-500 روپے میں حل کریں۔ گاہک کو سستا لگتا ہے، آپ کی لاگت صفر ہے۔
دوسرا اصول: کمیونٹی کے ذریعے پھیلاؤ۔ مساجد، کمیونٹی سینٹرز، بزرگوں کے اجتماعات — یہاں مفت ٹریننگ سیشن کریں۔ “سمارٹ ٹی وی کو آسان بنانے کے 5 طریقے” پر 20 منٹ کی بات کریں۔ سیشن کے بعد ہر دوسرا شخص آپ سے گھر آنے کو کہے گا۔
تیسرا اصول: ٹیم بنائیں۔ ایک شہر میں دو تین لوگ فیلڈ وزٹ سنبھال سکتے ہیں۔ ریموٹ سپورٹ ایک شخص سنبھال سکتا ہے۔ عید، رمضان اور چھٹیوں کے موسم میں آرڈرز پھٹ پڑتے ہیں — بچے گھر آتے ہیں تو والدین کی پریشانی نظر آتی ہے، فوراً سروس بک کرواتے ہیں۔
آمدنی کی چھت کہاں ہے: سروس فیس سے آگے کا کھیل
صرف وزٹ فیس سے لاکھوں کمانا ممکن ہے، لیکن اصل پیسہ اس کے آگے ہے۔
جب آپ کے پاس ہزاروں بزرگ گاہک ہوں، تو آپ کے پاس ایک قیمتی اثاثہ ہے: ایک بھروسہ مند سینئر کمیونٹی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صحت کی مصنوعات، انشورنس، گھریلو آلات اور بہت کچھ خریدتے ہیں۔ کمپنیاں ایسے گاہکوں تک پہنچنے کے لیے ہزاروں روپے فی لیڈ خرچ کرتی ہیں۔ آپ کے پاس یہ رسائی مفت میں ہے۔
دوسرا راستہ: اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ پارٹنرشپ۔ جب آپ کسی بزرگ کے ٹی وی پر کوئی ایپ سیٹ کرتے ہیں اور وہ سبسکرپشن خریدتا ہے، تو آپ کمیشن لے سکتے ہیں۔ پلیٹ فارمز کے پاس بزرگ صارفین تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں — آپ ان کا پل بن سکتے ہیں۔
تیسرا راستہ: اپنا پروڈکٹ۔ ایک سادہ سا اینڈرائیڈ باکس یا ریموٹ جس میں صرف تین بٹن ہوں — نیوز، ڈرامہ، یوٹیوب۔ اسے “بزرگ ٹی وی باکس” کے نام سے بیچیں۔ چین سے امپورٹ کریں، اپنا سافٹ ویئر ڈالیں، 5000-8000 روپے میں فروخت کریں۔ آپ کے پاس پہلے سے گاہک موجود ہیں۔
تین راستے جو آج سے شروع کیے جا سکتے ہیں
راستہ نمبر 1: OLX اور فیس بک مارکیٹ پلیس پر سروس لسٹ کریں۔ “بزرگوں کے لیے ٹی وی سیٹنگ — گھر آ کر سروس” کے عنوان سے اشتہار دیں۔ قیمت 1000-2000 روپے رکھیں۔ لوگ “ٹی وی اشتہار کیسے بند کریں” یا “ٹی وی پر چینلز کیسے لائیں” سرچ کرتے ہیں — ان سوالات کے جوابات دیں، گاہک خود آپ تک پہنچیں گے۔
راستہ نمبر 2: یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر اردو ٹیوٹوریلز بنائیں۔ “والدین کے ٹی وی سے اشتہارات ختم کریں — 2 منٹ میں” جیسی ویڈیوز بنائیں۔ ویڈیو کے آخر میں کہیں: “خود نہیں کر سکتے تو واٹس ایپ کریں، ویڈیو کال پر مفت رہنمائی کروں گا۔” مفت رہنمائی کے بعد آدھے لوگ آپ سے مکمل سروس خریدیں گے۔
راستہ نمبر 3: سوسائٹیز اور ہاؤسنگ اسکیموں میں کیمپ لگائیں۔ بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی انتظامیہ سے بات کریں۔ جمعہ یا اتوار کو کمیونٹی سینٹر میں مفت “ٹی وی چیک اپ کیمپ” لگائیں۔ چھوٹے مسائل موقع پر حل کریں، بڑے مسائل کے لیے گھر وزٹ بک کریں۔ ایک سوسائٹی سے 20-30 گاہک نکل آتے ہیں۔
شروعات کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں۔ ایک اسمارٹ فون، ایک موٹر سائیکل، اور بنیادی تکنیکی سمجھ — بس یہی کافی ہے۔ پہلے ہفتے میں دو تین آرڈرز لیں، کوالٹی پر توجہ دیں، اور گاہکوں سے گوگل ریویو یا فیس بک پر تعریف لکھوانا نہ بھولیں۔
اصل اثاثہ: بھروسہ
ٹی وی کا سافٹ ویئر سیٹ کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ لیکن بزرگ گاہک آپ کو اس لیے پیسے نہیں دیتے کہ آپ تکنیکی ماہر ہیں۔ وہ اس لیے دیتے ہیں کہ آپ صبر سے سمجھاتے ہیں، بار بار بتاتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر فون اٹھاتے ہیں۔
ایک بار جب کوئی بزرگ آپ پر بھروسہ کر لیتا ہے، تو وہ آپ کو اپنے تمام ڈیجیٹل مسائل کے لیے بلاتا ہے — فون ہینگ ہو گیا، واٹس ایپ نہیں چل رہا، بینک ایپ لاگ ان نہیں ہو رہی۔ ٹی وی صرف داخلی دروازہ ہے۔ اصل کاروبار پورے خاندان کی ڈیجیٹل زندگی کا انتظام ہے۔
ریٹائرڈ ٹیکنیشنز اور پلمبرز کو بھی اس کام میں شامل کریں۔ وہ بزرگوں کی زبان سمجھتے ہیں، ان کے ساتھ بات چیت آسان ہے۔ انہیں ٹریننگ دیں، آپ آرڈرز لائیں، وہ وزٹ کریں۔ آپ مینجمنٹ فیس لیں، وہ لیبر فیس لیں۔
پاکستان میں بزرگوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہر گھر میں سمارٹ ٹی وی آ چکا ہے۔ لیکن انہیں سکھانے والا کوئی نہیں۔ یہ خلا آپ کے لیے کھلا ہے۔
آج ہی OLX پر اپنا پہلا اشتہار لگائیں۔ قیمت 1500 روپے رکھیں۔ پہلا آرڈر شاید آج رات ہی آ جائے۔





